بٹ کوائن کی قیمت - An Overview

پاکستان کا پہلے سرکاری اسٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو کا اعلان

انشورنس فراڈ: گاڑیوں پر حملہ کرنے والا ’ریچھ‘ انسان نکلا

بٹ کوائن ایک ڈیجیٹل کرنسی اور پیئر ٹو پیئر پیمنٹ نیٹورک ہے جو آزاد مصدر دستور پر مبنی ہے اور عوامی نوشتہ سودا کا استعمال کرتی ہے۔ بٹ کوئن کمانے یا حاصل کرنے میں کسی شخص یا کسی بینک کا کوئی اختیار نہیں۔ یہ مکمل آزاد کرنسی ہے، جس کو ہم اپنے کمپیوٹر کی مدد سے بھی خود بنا سکتے ہیں۔ بٹ کوئن کرنسی کا دیگر رائج کرنسیوں مثلا ڈالر اور یورو سے موازنہ کیا جا سکتا ہے، لیکن رائج کرنسیوں اور بٹ کوئن میں کچھ فرق ہے۔ سب سے اہم فرق یہ ہے کہ بٹ کوئن مکمل طور پر ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جس کا وجود محض انٹرنیٹ تک محدود ہے، خارجی طور پر اس کا کوئی کاغذی یا دھاتی وجود نہیں۔ اسی طرح بٹ کوئن کرنسی کے پیچھے کوئی طاقتور مرکزی ادارہ مثلا مرکزی بینک نہیں ہے اور نہ کسی حکومت نے اب تک اسے جائز کرنسی قرار دیا ہے، اسی وجہ سے ریاستہائے متحدہ امریکا کے وزارت خزانہ نے اسے غیر مرکزی کرنسی قرار دیا ہے، کیونکہ اس کرنسی کو ایک شخص براہ راست دوسرے شخص کو منتقل کر سکتا ہے، اس کے لیے کسی بینک یا حکومتی ادارہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم انٹرنیٹ کے ذریعہ بٹ کوئن کو دیگر رائج کرنسیوں کی طرح ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جہلم میں محمد علی مرزا کی ’اکیڈمی پر فائرنگ:‘ ایک مبینہ حملہ آور ہلاک، پولیس اہلکار زخمی

پولیس نے پانچ گھنٹے تالاب میں چھپے رہنے والے انتہائی مطلوب چور کو کیسے پکڑا؟

ٹوبگے نے وضاحت کی کہ گرمیوں کے مہینوں کے دوران ، پانی کا زیادہ بہاؤ ہوتا ہے اور پن بجلی کے پودے ضرورت سے زیادہ توانائی پیدا کرتے ہیں۔

یاد رہے بٹ کوائن کی ملکیت کو مختلف گروپس میں رکھا جاتا ہے جو یہ بتاتے ہیں کہ کس ایڈریس پر کتنے بٹ کوائنز موجود ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ تحقیق بتاتی ہے کہ بٹ کوائن کی قدر میں تازہ ترین اضافہ اس لیے نہیں ہو رہا ہے کیونکہ انفرادی خوردہ سرمایہ کار بٹ کوائنز خرید رہے ہیں۔

بچوں کو پڑھائی کی طرف کیسے راغب کیا جائے؟ چند چنیدہ ہدایات

کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کی قیمت تاریخ کی اب تک کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔ بٹ کوائن کی قیمت میں اس اضافے کے لیے امریکی مالیاتی ادارے کافی حد تک ذمہ دار ہیں۔

کریپٹوگرافک قسم کی نقد رقم کی انفرادی اکائیوں کو سکے یا ٹوکن کے طور پر ان کی مدد کی جا سکتی ہے، اس پر انحصار کیا جاتا ہے کہ وہ کس طرح استعمال ہوتے ہیں۔ کچھ کاموں اور اشیاء کے تبادلے کی اکائیوں کے بارے میں سمجھا جاتا ہے، دوسروں کو اہم قیمت کے اسٹور ہیں اور کچھ کھیلوں اور رقم سے متعلق چیزوں جیسے غیر واضح میکہ کوائن پروگرامنگ منصوبوں میں حصہ لینے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔

تو دوسری کون سی تنظیمیں یا افراد بٹ کوائن وہیل ہیں؟ اور دولت میں تبدیلی کا بٹ کوائن پر کیا اثر پڑے گا؟

چونکہ بٹ کوائن کا نظام بلاک چین ٹیکنالوجی پر قائم ہے اور اس میں تمام ریکارڈ نیٹ ورک میں موجود تمام کمپیوٹرز/ نوڈز میں ہوتا ہے۔ مائیر کی یہ ذمے داری ہوتی ہے کہ ٹرانزیکشن جس کا ایک مخصوص کوڈ ہوتا ہے وہ اس کو چیک کرتا ہے کہ یہ بٹ کوائن حسن کے پاس کیسے آیا میکہ کوائن اور وہ اس ٹرانزیکشن سے قبل اس کو کسی اور جگہ پر خرچ تو نہیں کر چکا۔ جب مائینز مطمئن ہو جاتا ہے تو وہ اس ٹرانزیکشن کی تصدیق کر دیتا ہے اور بٹ کوائن حسن کی ملکیت سے نکل کر زید کی ملکیت میں آ جاتا ہے۔ اس عمل کو مائیٹنگ کہتے ہیں۔ اس کو پروف آف ورک بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عمل انتہائی محنت طلب اور بے انتہا مہنگا ہوتا ہے۔ اب سوال یہ آتا ہے کہ جو شخص اتنی محنت اور سرمایہ خرچ کر کے اس تصدیق کے عمل کو سر انجام دیتا ہے اس میں اس کا کیا فائدہ ہے؟

عام تصور کے برعکس کرپٹو کرنسی حکومت کے ضابطوں کے ماتحت ہوتی ہے۔ آپ جو جی چاہے وہ اس سے نہیں کر سکتے۔ یہ مکمل گمنامی مہیا نہیں کرتی۔ اور غالباً اب اس غبارے سے ہوا نکلنے ہی والی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *