سولہ مہینوں میں یہ تیسری دفعہ ہوا ہے کہ ایکوی فیکس ہیک ہوا۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی مذاکرات کار ایران مذاکرات کے لیے پاکستان جائیں گے۔ خبریں
اپنے کوائنز کو ایسی ایکسچینج کے پاس چھوڑنا خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے، مثال کے طور پر ایف ٹی ایکس کا خاتمہ جس کے نتیجے میں صارفین اپنی ڈیجیٹل کرنسی تک رسائی سے محروم ہو گئے۔ بٹ کوائن کے بنیادی نظریے پر یقین رکھنے والے اس بارے میں بھی اپنے تحفظات ظاہر کرتے ہیں کہ بڑے ریگولیٹڈ اور قانون کی تعمیل کرنے والے ایکسچینج اس کرنسی کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ خیال کے خلاف ہے۔
اس میں اگر کوئی صارف یہ چاہتا ہے کہ دولوگوں کے درمیان ہونے والی ٹرانزیکشن کی تصدیق کرے تو اس کے لیے اس کو پہلے کچھ کو ائنز لاک کرنے ہوتے ہیں تا کہ اس کا احتمال ختم ہو جائے کہ یہ صارف جعلی تصدیق نہ کر دے، جب یہ صارف تصدیق کا عمل مکمل کر چکا ہو تو نئے کوائنز کی تشکیل ہو جاتی ہے اور وہ کوائنز اس صارف کے اکاؤنٹ میں آجاتے ہیں، اور اس عمل کے نتیجے میں ایک نیا بلاک نیٹ ورک میں بن جاتا ہے۔ (۶)
تونسہ: بچوں میں ایچ آئی وی وبا کے پھیلاؤ سے جڑے ہسپتال میں سرنجز کے ایک سے زیادہ بار استعمال کا انکشاف
یاد رہے سرمایہ کاری سے پہلے مکمل تحقیق کریں کیونکہ اس کی ابھی تک قانونی حیثیت واضح نہیں ہے اور سیکریٹری خزانہ نے بھی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں واضح کیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے کرپٹو کرنسی پر پابندی بٹ کوائن ابھی برقرار ہے۔
ہندوستان اور چین کے مابین واقع ، بھوٹان – جو کاربن منفی بننے کے لئے دنیا کا پہلا ملک بھی ہے – حالیہ برسوں میں دنیا کے سب سے مشہور کریپٹوکرنسی میں لاکھوں ڈالر کی کان کنی ہے ، جس سے ایک معاشی شرط ہے جو اسی حد تک نہیں ہے۔
جب میں ویب پر اپنی رقم دے کر خوش تھا تو ایسے میں مجھے فوراً معلوم ہوا کہ بٹ کوائن کو آن لائن منشیات خریدنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جو ایک ایسی چیز تھی جس کی میں نے کبھی کوشش نہیں کی۔ بٹ کوئن کو آپ اپنی ہفتہ وار خریداری کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔ مجھے یہ اس لیے معلوم ہے کیونکہ ایک سٹور پر لوگ مجھ پر ہنس چکے ہیں۔
ایک خواب جو کینسر کی تشخیص کی وجہ بنا، کیا واقعی سوتا ہوا دماغ ہمیں پیغام دے سکتا ہے؟
گذشتہ چند ہفتوں میں رونما ہونے والے ان واقعات کے بعد سے ان مالیاتی اداروں کو ’بِٹ کوائن وہیل‘ کہا جانے لگا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن کی کان کنی ان چند منصوبوں میں سے ایک ہے جو ایک آئینی بادشاہت بھوٹان کو اپنی معیشت کو بڑھانے کی اجازت دیتی ہے جبکہ ایک ملک کی حیثیت سے اپنی اقدار کے ساتھ صف بندی کرتی ہے۔
بھوٹان کے بادشاہ ، جیگے کھسار نامگیل وانگچک نے طویل عرصے سے ملک کی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرنے کی وکالت کی ہے۔
اےایمان والو! یہ شراب اور یہ جوا اور یہ آستانے اور پانسے سب گندے شیطانی کام ہیں لہذا ان سے بچتے رہوتا کہ تم فلاح پاسکو۔
ان ٹو دی بلاک کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بڑے بینکوں جیسی بٹ کوائن وہیلز قیمت اور مانگ میں اضافہ کر رہی ہیں اور ٹوکن پیئر ٹو پیئر ڈیجیٹل کیش کی طرف متوجہ ہونے والے عام لوگوں میں اضافہ نہیں ہو رہا۔